Surah Al Mominon

Surah Al Mominon Introduction

Surah Al Mominun is the 23rd chapter of the holy Quran. The title translates “The believers.” Desi Saurav was really valid in madina and consisted of 118 versus six rukus. It is located in the 18th juz of the Quran.
This is a big one by highlighting the attributes of dream levers such as humanity devotion in prayer and avoiding idle talk. It also describes the creation of human fluid, their development in the womb, and the intricate signs of Allah’s power and wisdom. Additionally the story of Prophet Noah and other prophets dressing this significance of following divine guidance.

Benefits of Surah Al Mominon

  • Reciting this surah with sincere belief is said to help cure major illness.
  • It strengthens the reciters of faith and trust in Allah.
  • This surah serves of a reminder of the importance of Faith prayer and good deeds.
  • Guidance to leave us encouraging them to uphold live in accordance with Islamic principles.

Surah Al Mominon Ayats

Surah Al Mominon Words

Surah Al Mominon Letters

Surah Al Mominon Rukus

118

1162

4401

6

Surah Al Mominon

Surah Al Mominun

Surah Al Mominun
Surah Al Mominun
Surah Al Mominun
Surah Al Mominun
Surah Al Mominun
Surah Al Mominun
Surah Al Mominun
Surah Al Mominun
Surah Al Mominun
Surah Al Mominun
Surah Al Mominun
Surah Al Mominun
Surah Al Mominun

Surah Al Mominon

سورة المومنون آیت نمبر 1 تا (11)

ئے۔ ان کا میل فَنَ فَلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَشِعُوْنَ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ

اللہ تعال نے انی یا کمیاب ہوگئے مومن وہی جو اپنی نماز میں عاجزی کرنےوالے ہیں اور وی جوانفو کاموں سے منہ موڑنے والے Out نہیں ایمان لانے کی و ا مع الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَا بِهِمْ خَدِعُونَ وَالَّذِينَ هُمْ

عَنِ اللَّغْوِ تھے۔

مُعْرِضُونَ

しゅ کا مومنیہ وہ لوگ اپنی نمازوں خشوع کرنے ش آوردم لوگ ہیں والے ہیں جو منہ بات سے

والے ہیں

بلند وبانگ والا وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكُوةِ فَعِلُونَ وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَفِظُوْنَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ اور وہی جو زکوۃ ادا کرنے والے ہیں اور وہی جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں مگر اپنی بیویوں

ت نہیں بلکہ ہم اریا

وَالَّذِينَ هُمْ

لِلزَّكَوةِ

فَعِلُونَ

وَالَّذِينَ هُمْ

لِفُرُوجِهِمْ اپنی شرمگاہوں حفاظت کرنے کی

اورود لوگ

زکوة کے کرنے

جو

لیے

والے ہیں

اور وہ لوگ

حفِظُونَ

إِلَّا

عَلَى أَزْوَاجِهِمْ

والے ہیں

مگر

اوپر اپنی بیویوں کے

ت رہنمائی کرتا ہے، أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَبِكَ هُمُ الْعُدُونَ

ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں توجہ شبہ و ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں ۔ پھر جو اس کے سوا تلاش کرے تو ہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں

نا بہتا ہے ۔ اللہ تعالی أو ما ملكت

أَيْمَانُهُمْ

فَإِنَّهُمْ

غَيْرُ مَلُومِينَ

فَمَنِ ابْتَغَى

وَرَاء ذَلِكَ

فَأُولَيكَ

هُمُ الْعَدُونَ

جن کے یا مالک ہوئے

ان کے دائیں ہاتھ

تو چیک

نہیں ہیں لائق ملامت نہ

تو جو کوئی تلاش

اس کے

تو یہی

وہ زیادتی کرنے

ہے۔

اپنے ایمان کے بارے

علامت کیے جانے والے ہیں

کرے۔ چاہے

لوگ

والے تک

وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمْنَتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رُعُونَ وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ اور وہی جو اپنی نمازوں کی حفاظت

اور وہی جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا لحاظ رکھنے والے ہیں (8)

کرتے ہیں

الأمريمُ

وَعَهْدِهِمْ

رَعُونَ نگرانی کرنے والے ہیں

وَالَّذِينَ

هُمْ

عَلَى صَلَوتِهِمْ

يُحَافِظُونَ

کی ہر چیز سے آگا والدین تھے

اور وو

لوگ

اپنی امانتوں

اور اپنے عبد

کے لیے

کے

اور وہ لوگ

رو

اپنی نمازوں پر

حفاظت ( پابندی) کرتے ہیں

تعالى الامام

اولا هُمُ الْوَرِثُونَ الَّذِينَ يَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ، هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ

اقف ہے جو بندہ دل کا

یہی لوگ ہیں. جو وارث ہیں جو فردوس کے وارث ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

أوليك

هُمُ الْوَرِثُونَ

الَّذِينَ

يَرِثُونَ الْفِرْدَوسَ

ہیں لوگ

دو ہیں جو وارث ہونے والے ہیں وہ لوگ

جو ورثے میں پائیں گے فردوس کو

 هُمْ فِيه خلدون اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

Surah Al Mumoonoon

Success is really attained by the

lievers (1)

whe concentrate their humbleness attention in when offering Salah

تعلیمات اسلامی (بی ایس )

قد ا فَلَعِ الْمُؤْمِنُونَ )

الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَشِعُونَ

(2)(stake

and who keep themselves away from vain وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللُّغوِ مُعْرِضُونَ ings (3)

and who are performers of Zakah, (4)

and who guard their private parts (5)

except from their wives or from those bondwomen who are) owned by their hands, as they are not to be blamed. (6) إلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَذْكُتُ المالهم

However, those who seek (sexual pleasure beyond that are the transgressors(7) في البتغى وراء ذلك فأوليك هم العنون

– and (success is attained by those who honestly look after their trusts and covenant, (8) وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَنَتِهِمْ وَعَهْرِهِمْ رعون

وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَوةِ فَعِلُونَ

وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حَفِظُونَ )

فَانهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ

and who consistently observe their وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَّوْبِهِمْ أَحَافِظُون

prayers.(9)

Those are the inheritors (10)

أوليكَ هُمُ الْوَرِثُونَ

Who will inherit Firdaus (the Paradise( الذين يرثون الفرقوش هم فيها They will be there forever. (11)

تشریح (آیت نمبر 1 تا 11)

Attributes of Faithfuls( صفات المومنین

)Humbleness and Submission in Prayer( 1) نماز میں خشوع خضوع(

)Abstention from Absurdity( 2) افوسے پر ہیز کرنا(

سورہ مومنون کی ان آیات میں اللہ تعالی نے اہل ایمان کو کامیاب کیا ہے۔ اور اُن کی کامیابی کی وجہ بھی بیان کی ہے کہ کامیابی صرف زبانی دعوتوں کا نام نہیں، اس کے لئے ایمان سب سے پہلی شرط ہے اور پھر درج میں صفات کو اپنا لازمی ہے۔

اہل ایمان کی سب سے پہلی صفت یہ بتائی گئی کہ دو نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں، خشوع کے معنی ایسی عاجزی ہے جو دل میں بار اور بیت طاری ہونے کی وجہ سے ہو ، پھر اس خشوع کا تقاضا ہے کہ آدمی با ادب کھتا ہو، ادھر اُدھر نہ دیکھنے اور دل میں عیارات نہ آئے ہے۔ اس بات پر توجہ دے کہ وہ زبان سے کیا کہ رہاہے یعنی پو ری تو جہ سے نماز ادا کرے۔ اللہ تعالی نے ابھی اٹل

ایمان کو کامیاب کیا ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے ! الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ (موالون (2) “جو اپنی نمازوں میں عاجزی کرتے ہیں “۔

تقوم اس بات اور کام کو کہتے ہیں جن باتوں اور کاموں میں کوئی فائدہ نہ ہو اور ایسے فضول کام جن سے کوئی اچھا مقصد حاصل نہ ہو وہ لغویات ہیں۔ اہل ایمان کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ لویات کی طرف توجہ نہیں کرتے، ان میں کوئی دلائیں نہیں لیتے اور جہاں ایسی باتیں یا کام ہو رہے ہوں وہاں جانے سے پر ہیز کرتے ہیں اور اگر کہیں ان سے سابقہ خویش آپ نے تو شریخانی گزر جاتے ہیں۔ اور شاہ باری تعالی ہے !

وَإِذَا مَرُوا بِاللَّغْوِ مَرُوا كِرَامًا ( الفرقان (22) اور جب کسی لفو کام پر ان کا گزر ہو تو شریفانہ انداز سے گزر جاتے ہیں ” ۔

دا ( کو ادا کرتا (To pay Zakat)

شرائط کوہ کے معنی افت میں پاک کرنے کے ہیں ، اصطلاح میں مال کا ایک خاص حصہ کچھ اثر لفظ کے ساتھ صدقہ کرنے کو مانوں کی امداد ہوتی ہے طبقاتی تقسیم کم ہو جاتی ہے اور دولت کا بہاء میں سے غریب کی طرف ہو جاتا ہے۔ اس لیے کو کو ادا کرنا

الی ایمان کی صفت جتایا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے؟

وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَودَ فَاعِلُونَ (مومنون : 4 ) اور جوا کو 17 کرتے ہیں ” ۔

Leave a Comment