Nazool e Quran

نزول قرآن

Revelation of Quran

انحضرت صلی نام کی کل عمر 63 برس تھی۔ آپ ملی تعلیم نے 40 برس کی عمر میں نبوت کا اعلان کیا۔ اعلان نبوت سے کچھ عرصہ پہلے آپ منی ایام کو بچے خواب نظر آنا شروع ہوئے جو خواب آپ صلی امام رات کو دیکھتے صبح ویسے ہی ہو جاتا۔ آنحضرت صلی العالم فرماتے ہیں:

كَانَ يُسَلِّمُ عَلَى قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ ( مح مسلم: 2277)

میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو نبوت سے پہلے مجھے سلام کیا کرتا تھا۔ جوں جوں اعلان نبوت کا زمانہ قریب آتا گیا ہدایت کی تلاش میں رسول اکرم صلی علیم کی تڑپ بڑھتی گئی۔ قرآن مجید نے

آپ کی اس کیفیت کو یوں بیان کیا ہے:

وَوَجَدَكَ ضَالًا فَهَدَى (ا: 7)

اللہ تعالی نے آپ کی ٹیم کو حق کی تلاش میں سرگرداں پایا اور پھر آپ سلام کو اپنی اور کھائی ۔ تحنت عبادت کا نام

)Beginning of Revelation( )آغاز نزول قرآن (وحی

و ان خلاف عادت واقعات کے تھوڑے عرصے بعد آپ بیان فرماتے ہیں میری عمر چالیس برس تھی۔ اور میں غار حرا میں عبادت کر رہا تھا کہ یکا یک میرے سامنے ایک ایسی شخصیت کا ظہور ہوا جسے میں نہیں پہنچاہتا تھا اس نے کہا۔

اقْرَا يَا مُحَمد “اے محمد پڑھتے ” میں نے کہا: پہلی وحی کا واقعہ ؟ وَمَا أَنَا بِقَارِي ” میں پڑھا ہوا نہیں ہوں”۔

آیات کی تلاوت کیں۔ اس شخصیت نے تین مرتبہ یہی سوال دہرایا۔ اور پھر چوتھی بار مجھے پکڑ کر دبایا اور چھوڑ دیا اس کے بعد سورہ علق کی پانچ رَأَ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ، خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ .

عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ (اح: 1-5) ے محمد صلی ا ہم اپنے رب کے نام سے پڑھئے جس نے پیدا کیا جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا تیر ارب بڑا بزرگ اور کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا انسان کو وہ کچھ سکھایا جو ہ نہیں جانتا تھا۔

)Return to Home in Fear( خوف کے عالم میں گھر واپسی آپ

6

ملی امام خوف کی حالت میں گھر واپسی آئے آپ مل اینم کادل دھڑک رہاتھا آپ نئی ٹیم نے اپنی بیوی حضرت خدیجہ سے فرمایا:

زملُونِي زَقِلُونِي ” مجھے کمبل اوڑھا دو ۔چنانچہ حضرت خدیجہ نے کمبل اوڑھا دیا۔ آپ مل کی نام نے کچھ دیر آرام کیا اور جب خوف جاتا رہا آپ صلی ٹیم نے حضرت خدیجہ سے فرمایا۔ انی خَشِيتُ على نفسی ( کیا الری (1) ” مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے ” ۔ پھر آپ ملی یا ہم نے حضرت خدیجہ کو سارا )Hazrat Khadija Consoled Prophet( حضرت خدیجہ کا آپ سلام کو تسلی دینا

قصہ سنا دیا جو آپ سی میڈیم کو نمار حرا میں پیش آیا تھا۔

حضرت خدیجہ نے جب سارا قصہ سناتو انہوں نے آپ مسلا پیلم کو تسلی دی اور کہا: آپ صلی ایم کو اللہ تعالی ہر گز نا کام نہیں کرے گا، آپ صلی العظیم رشتہ داروں کو باہم جوڑتے ہیں، آپ صلی الہم لوگوں کی مشکلات کا بوجھ اٹھاتے ہیں، آپ مسل اللہم فقیروں کو مال عطا کرتے ہیں اور مہمان نواز ہیں”۔

)Warqa-bin-Nofel Confirmed Prophethood( ورقہ بن نوفل کی تصدیق نبوت

78

آیت “

ترتیب تو

سورہ الناس پری

حضرت خدیجہ آپ کسی کام کو تسلی دینے کے بعد اپنے چازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ جو عیسائی تھے انہوں نے نزول قرآن الی کا راجہ عبرانی عرب میں کیا تہ بہ بوڑھے اور ان ہو چکے تھے حضرت خدیجہ نے ان سے کہا ہے چازاد بھائی ان کی بات سنو S ورقہ نے پوچھا کیا بات ہے ؟ امحضرت مالی تعلیم نے غار حرا میں پیش آنے والا سارا واقعہ ورقہ کو سنا دیا۔ ورقہ نے سارا واقعہ سن کر کہا۔

هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نَزَّلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى ( حج اوری: 3)

یہ وہی فرشتہ ہے جسے اللہ تعالی نے حضرت موسی پر نازل فرمایا تھا”۔

ورقہ بن نوفل نے آپ مالی نام کے ہی ہونے کی تصدیق کی۔ اور پیشین گوئی کی کہ تیری قوم کے لوگ تجھے اس علاقے سے نکال دیں گے اور ورقہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اے کاش میں اس وقت تک زندور ہوں اور تیری مدد کر سکوں۔ 22/0106 سال )Break in Revelation( وحی (نزول قرآن) کا منقطع ہونا

پہلی وحی کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ تک وحی نازل نہ ہوئی اس زمانے کو اخترت الوحی کا زمانہ کہتے ہیں۔ اور پھر سورہ مد شر کی ابتدائی آیات نازل ہو ئیں۔ ارشاد باری تعالی ہے: يَا أَيُّهَا الْمُدَّيرُه لَمْ فَأَنذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِرُ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ (المدر: 5-1)

نزول

riod(کمی دور

اعلان

سور میں کہا جاتا۔

مدنی دور (God

ہجرت

مدنی سورتوں کی تے

اپنے چادر اوڑھنے والے، کھڑے ہو جائے اور ڈرا ہے اور اپنے رب ہی کی عظمت بیان کیجئے، اپنے کپڑوں کو پاک رکھئے اور کی سول ہر قسم کی آلائشوں سے دور رہے “۔ سوره مدثر کی آیات نازل ہونے کے بعد وہ مسلسل اور لگاتار نازل ہونا شروع ہوئی اور یہ پھر 1 ذی الحج سن دی مجری جمعہ کی سورتوں کا۔

رت

الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں آخری وحی ان الفاظ میں نازل ہوئی۔

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلَامَ دِينًا

آج کے روز میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی۔ اور تمہارے لئے اسلام کو

بطور دین پسند کیا ۔ (مائدہ: 3)قرآن پاک کی ترسیب

)Nazoli Arrangement( ترتیب نزولی

58

قرآن پاک کی ترتیب دو طرح ہے۔ (1) ترتیب نزولی (2) ترتیب توقیفی

ترتیب نزولی سے مراد قرآن پاک کی وہ ترتیب ہے جس ترتیب سے قرآن پاک نازل ہوا۔ قرآن پاک کے نازل ہونے کی ترتیب کو ترتیب نزولی کہتے ہیں نازل ہونے کے اعتبار سے پہلی آیت “اقراء” ہے اور آخری

آیت “الیوم اکملت” ہے۔

)Tauqifi Arrangement( ترتیب توقیفی

قرآن پاک کی موجودہ ترتیب کو ترتیب توقیف کہتے ہیں۔ اس ترتیب کی رو سے قرآن مجید سورہ فاتحہ سے شروع ہوتا ہے اور

سورہ الناس پر ختم ہوتا ہے اور یہ وہ ترتیب ہے جو آنحضرت منی ای ایم نے اللہ تعالی کے حکم سے لگائی ہے۔

(2) مدنی دور )Periods of Revelation of Quran( نزول قرآن کے ادوار نزول قرآن کے دو زمانے ہیں۔ (1) مکی دور

S

)Makki Period( مکی دور

اعلان نبوت کے بعد قرآن مجید کا وہ حصہ جو مکہ میں نازل ہو اسکی دور کہلاتا ہے اس دور میں نازل ہونے والی سورتوں کو سکی بنجر زمین

سور میں کہا جاتا ہے اور مکی سورتوں کی تعداد (86) ہے۔

)Madni Period( مدنی دور

ہجرت مدینہ کے بعد کے دور کو مدنی دور کہا جاتا ہے اس عرصہ میں جو سورتیں نازل ہو ئیں انہیں معرفی سورتیں کہا جاتا ہے اور صلہ کے نام مدنی سورتوں کی تعداد (28) ہے۔

Maaki Surat kae naam
Dua e Nazool
Dua e Nazool
Madni surat ki khasosiyat
Madni surat ki khasosiyat

Leave a Comment